حوزہ نیوز ایجنسی I اسماء بنت عمیس راوی ہیں کہ: "جب حضرت حسین بن علی علیہما السلام کی ولادت ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو اطلاع ہوئی تو آپ تشریف لائے اور فرمایا: 'اسماء! میرا فرزند مجھے دو'۔ میں نے بچے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے دائیں کان میں اذان دی، بائیں کان میں اقامت کہی پھر آپ کی مقدس آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے گریہ کیا۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، رونے کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: 'اس میرے بیٹے کی وجہ سے'۔ عرض کیا: ابھی تو یہ نومولود ہے، خوشی کا موقع ہے، رونا کیوں؟ فرمایا: 'میرے بعد ایک گروہ ظلم کر کے اسے شہید کرے گا، اور میں قیامت میں اس گروہ کی شفاعت نہیں کروں گا'۔ پھر فرمایا: 'فی الحال یہ بات فاطمہ سلام اللہ علیہا کو نہ بتانا'۔"
اس کے بعد آپ (ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا: 'یا علی! تم نے اپنے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے؟' حضرت علی علیہ السلام نے عرض کیا: 'میں رسول اللہ (ص) سے پہلے نام رکھنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔' نبی اکرم (ص) نے فرمایا: 'میں بھی اپنے رب سے پہلے نام رکھنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔'
اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کیا: 'اے محمدؐ! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں: علیؑ آپ کے لیے وہی مقام رکھتے ہیں جو ہارونؑ نے موسیٰؑ کے لیے رکھا تھا۔ پس آپ اپنے اس فرزند کا نام ہارونؑ کے فرزند کے نام پر رکھیں۔' رسول اللہ (ص) نے پوچھا: 'ہارونؑ کے فرزند کا کیا نام تھا؟' جبرائیلؑ نے جواب دیا: 'شبیر'۔ آپ (ص) نے فرمایا: 'میری زبان عربی ہے'۔ جبرائیلؑ نے کہا: 'پھر اس کا نام حسین رکھیں (جو شبیر کا عربی مترادف ہے)'۔
چنانچہ رسول اللہ (ص) نے اس بچے کا نام حسین رکھا اور اس کی طرف سے عقیقہ میں ایک مینگھا ذبح کیا۔"
حسینی مکتب کے چند دروس
امر بالمعروف، نہی عن المنکر، ظلم اور جابرانہ حکومت کے خلاف جدوجہد، اور انحرافات سے مقابلہ - یہ وہ اہم سبق ہیں جو امام حسین علیہ السلام سے سیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی باتوں اور طرزِ زندگی سے ہمیں ذاتی اصلاح اور بہتر زندگی گزارنے کے طریقے بھی ملتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اہلِ قلم اور دانشور ان قیمتی اقوال کا تجزیہ کریں جو امامؑ نے چھوڑے ہیں، تاکہ ان سے اپنی زندگیوں اور معاشرے کی اصلاح کا سامان حاصل کیا جا سکے۔
۱ـ امام حسین علیہ السلام کا ایک پھول کے تحفے کا جواب
ایک دن ایک کنیز نے امام حسین علیہ السلام کو پھول کی ایک ٹہنی تحفے کے طور پر پیش کی۔ امامؑ نے تحفہ قبول کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "تم اللہ کی راہ میں آزاد ہو۔"
انس بن مالک (رسول اللہ (ص) کے خادم) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: "اس کنیز نے آپ کو صرف ایک پھول کی ٹہنی (جس کی کوئی خاص قیمت نہیں) پیش کی ہے، اور آپ نے اس کے بدلے میں اسے آزاد کر دیا؟"
امامؑ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی ادب سکھایا ہے: 'جب تمہیں کوئی تحفہ دیا جائے تو تم بھی اس کے بدلے میں اچھا تحفہ دو یا کم از کم اس کے برابر۔' (سورہ نساء:۸۶)"
امام حسین علیہ السلام نے انس کو یہ سبق دیا کہ تحفے کی قدر رقم یا مقدار سے نہیں، بلکہ خلوصِ نیت اور دینے والے کے اخلاق سے ہوتی ہے۔
۲- بیمار کی عیادت اور اس کے قرض کی ادائیگی
ایک دن امام حسین علیہ السلام اسامہ بن زید کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جو بیمار تھے۔ آپ نے انہیں غمگین پایا تو فرمایا: "تم کیوں غمگین ہو؟" انہوں نے عرض کیا: "میرے ساٹھ ہزار درہم کا قرض ہے۔" امامؑ نے فرمایا: "یہ قرض میری ذمہ داری ہے۔" اسامہ نے کہا: "مجھے خدشہ ہے کہ میں اس کی ادائیگی سے پہلے مر جاؤں گا۔" آپؑ نے فرمایا: "تم اس وقت تک نہیں مرو گے جب تک میں یہ قرض ادا نہ کر دوں۔" چنانچہ امامؑ نے ان کی وفات سے پہلے ہی ان کا سارا قرض ادا کر دیا۔
۳- گناہوں سے بچنے کے اہم اصول
ایک شخص امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "میں ایک گنہگار شخص ہوں اور اپنے آپ کو گناہوں سے نہیں روک پاتا، مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔" امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "پانچ باتوں پر عمل کرو، پھر جو چاہو گناہ کر لینا:"
۱. رزق خدا کو ترک کر دو، پھر جو چاہو گناہ کر لو!
(یعنی اگر تم اللہ کے دیے رزق سے بےنیاز ہو سکتے ہو تو پھر گناہ کرلو)
۲. اللہ کی مملکت سے باہر چلے جاؤ، پھر جو چاہو گناہ کر لو! (یعنی اگر تم اللہ کی حکومت سے باہر نکل سکتے ہو تو...)
۳. ایسا مقام ڈھونڈ لو جہاں اللہ تمہیں نہ دیکھے، پھر جو گناہ چاہو کرو!
۴. جب ملک الموت تمہاری روح قبض کرنے آئے تو اسے روک دو، اپنی روح نہ جانے دو، پھر جو چاہو گناہ کر لو!(یعنی اگر موت کو روک سکتے ہو تو...)
۵. قیامت کے دن جب دوزخ کا مالک تمہیں دوزخ میں ڈالنے آئے تو اگر طاقت رکھتے ہو، اندر مت جانا، تب تم جو چاہو گناہ کر سکتے ہو۔
4- نماز کی اہمیت امام حسین (ع) کی سیرت میں
نماز زندگی کی اصلاح میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ زندگی کے دباؤ اور پیچیدگیوں میں نماز، جو خالق کے ساتھ ایک خوبصورت تعلق ہے، بہت راہ نمائی اور سکون بخش ہوتی ہے۔ لہذا نماز کی طرف توجہ زندگی کے انداز اور مسائل کے حل میں مؤثر اور کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام ابھی زبان نہیں کھولے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نفل نماز پڑھ رہے تھے اور امام حسین علیہ السلام بھی ان کے پاس کھڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ "اللہ اکبر" کہتے، مگر امام حسین علیہ السلام نہیں کہہ پاتے تھے۔ یہ عمل چھ بار دہرایا گیا۔
ساتویں بار جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے "اللہ اکبر" کہا، تو امام حسین علیہ السلام نے زبان کھولی اور "اللہ اکبر" کہا۔ اس طرح امام حسین علیہ السلام کی زبان سے پہلا کلمہ "اللہ اکبر" ہی تھا اور آپ نے آخر تک اسی شعار توحید پر استقامت کی اور اپنا پاک خون "اللہ اکبر" کی بلندی کے لیے وقف کر دیا۔
امام حسین علیہ السلام سے حاصل ہونے والے خوبصورت اسباق میں سے ایک نماز کی طرف توجہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نماز اول وقت کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یہاں تک کہ عاشورا کی دوپہر اور جنگ کے شدید ترین حالات میں بھی آپ نے نماز اول وقت ترک نہیں کی۔ جب عمرو بن عبداللہ مشہور بہ ابوثمامہ صائدی نے کہا: "میں چاہتا ہوں کہ آپ کی امامت میں نماز پڑھنے کے بعد اپنے رب سے جا ملوں"، تو امام نے جواب دیا: "تم نے نماز کی یاد دلا دی، اللہ تمہیں حقیقی نمازیوں میں سے کرے۔ ہاں، یہ نماز ظہر کا اول وقت ہے۔ ان سے کہو کہ تھوڑی دیر جنگ بند کریں، تاکہ ہم نماز ادا کر سکیں"۔









آپ کا تبصرہ